Journal & Events

7 min read

مدثر غفار: ایک ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل فائن آرٹسٹ کا سفر

Mudassar Ghaffar: A Rising Digital Fine Artist

مدثر غفار: ایک ابھرتے ہوئے ڈیجیٹل فائن آرٹسٹ کا سفر

فن کسی ایک وسیلے، ایک تکنیک یا ایک زمانے کا پابند نہیں ہوتا۔ زمانہ بدلتا ہے تو فن کے اظہار کے ذرائع بھی بدلتے ہیں، مگر فن کی بنیادی روح—مشاہدہ، احساس، تخلیق اور اظہار—اپنی جگہ برقرار رہتی ہے۔ آج جب ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے فنونِ لطیفہ کے میدان میں اظہار کے نئے امکانات پیدا کیے ہیں، بعض فنکار ایسے بھی ہیں جو روایت سے جڑے رہتے ہوئے نئے ذرائع کو اپنی تخلیقی زبان کا حصہ بنا رہے ہیں۔ مدثر غفار کا فنی سفر بھی اسی تسلسل کی ایک مثال ہے۔ 1981ء میں ایبٹ آباد میں پیدا ہونے والے مدثر غفار کا تعلق ایک ایسے گھرانے سے ہے جہاں فن محض مشغلہ یا پیشہ نہیں تھا بلکہ گھریلو ماحول کا حصہ تھا۔ ان کے مرحوم والد، جناب عبدالغفار، خود ایک فنکار تھے۔ چنانچہ مدثر کو فن سے شناسائی کسی باقاعدہ ادارے کے دروازے پر قدم رکھنے سے پہلے ہی گھر کی فضا میں حاصل ہو گئی۔ ڈرائنگ، مصوری، رنگ، اشکال اور مشاہدے کے ابتدائی اسباق انہیں اپنے والد ہی سے ملے۔ یہ تربیت بعد ازاں ان کے بڑے بھائیوں کی فنی وابستگی سے بھی آگے بڑھی۔ ایک بڑے بھائی فائن آرٹسٹ ہیں، جبکہ دوسرے بڑے بھائی خطاط ہیں۔ یوں مدثر نے ایک ہی گھر میں مصوری اور خطاطی کے دو مختلف مگر باہم مربوط ذوق کو قریب سے دیکھا۔ ایک طرف مصوری میں شکل، رنگ، روشنی اور ترکیب کا شعور پیدا ہوا تو دوسری طرف خطاطی نے خط، تناسب، ترتیب اور ہاتھ کی گرفت جیسے عناصر کی اہمیت سے آشنا کیا۔ یہی ابتدائی ماحول ان کے فنی مزاج کی تشکیل میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ وقت کے ساتھ مدثر نے اپنے فنی سفر کو ایک نئے مرحلے میں داخل کیا اور ڈیجیٹل فائن آرٹ کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ تاہم یہ تبدیلی محض ذریعہ بدلنے تک محدود نہیں تھی۔ ان کے لیے ڈیجیٹل پینٹنگ روایتی مصوری سے علیحدگی نہیں بلکہ اسی فنی تربیت کا ایک نیا تسلسل تھی۔ ڈرائنگ، ساخت، روشنی، رنگ، قدر و قیمت، پرسپیکٹو اور کمپوزیشن جیسے بنیادی اصول ان کے کام میں آج بھی اسی اہمیت کے حامل ہیں جو کسی روایتی مصور کے لیے ہوتی ہے۔ مدثر اپنے اس تصور کو ایک مختصر مگر معنی خیز جملے میں بیان کرتے ہیں: “Art is art. Don’t get confused by the tools.” یعنی فن، فن ہی ہے؛ اس کے اظہار کے ذرائع انسان کو اصل مقصد سے غافل نہیں کرنے چاہییں۔ یہی تصور ان کے ڈیجیٹل کام کو سمجھنے کی ایک کلید بھی فراہم کرتا ہے۔ ان کے نزدیک کمپیوٹر یا ڈیجیٹل سافٹ ویئر خود فن نہیں؛ یہ صرف وہ اوزار ہیں جن کے ذریعے فنکار اپنے مشاہدے اور تخیل کو بصری شکل دیتا ہے۔ اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ فنکار کیا دیکھتا ہے، اسے کس طرح سمجھتا ہے اور پھر اسے کس فنی زبان میں پیش کرتا ہے۔ مدثر کے فن میں پورٹریٹ پینٹنگ کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ انسانی چہرہ ان کے لیے محض ظاہری مشابہت کا موضوع نہیں بلکہ شخصیت، کیفیت اور جذبات کے اظہار کا ایک اہم وسیلہ ہے۔ ان کے پورٹریٹس میں چہرے کی ساخت، نگاہ، روشنی اور رنگ کے باہمی تعلق پر خاص توجہ دکھائی دیتی ہے، جبکہ مصورانہ برش ورک اور روشنی و سائے کی تشکیل شخصیت کے تاثر کو ابھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ بعض کاموں میں نرم رنگوں اور ہلکی روشنی کے ذریعے ایک خاموش اور متفکر کیفیت پیدا ہوتی ہے، جبکہ کہیں گہرے تضادات اور مضبوط مصورانہ انداز انسانی شخصیت کے زیادہ نمایاں پہلوؤں کو سامنے لاتے ہیں۔ یوں ان کی پورٹریٹ پینٹنگ محض چہرے کی نقل نہیں رہتی بلکہ انسانی شخصیت، احساس اور باطنی کیفیت کو بصری زبان میں بیان کرنے کی ایک کوشش بن جاتی ہے۔۔ تاہم مدثر کی مصوری کا دائرہ پورٹریٹ تک محدود نہیں۔ ان کے کام میں مناظرِ فطرت، شہری مناظر، وائلڈ لائف، تمثیلی اور علامتی موضوعات بھی نمایاں ہیں۔ ان کے لینڈ اسکیپس میں روشنی، فضا اور رنگ کے باہمی تعلق کو خاص اہمیت حاصل ہے، جبکہ شہری مناظر میں عمارتوں، راستوں اور ماحول کی ساخت کو روشنی اور پرسپیکٹو کے ساتھ مربوط کیا جاتا ہے۔ وائلڈ لائف کے موضوعات میں جانداروں کی ساخت، حرکت اور موجودگی کو سمجھنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ ان کے بعض تمثیلی اور علامتی کام ایک مختلف سوال اٹھاتے ہیں۔ یہاں مصوری کا مقصد محض کسی منظر یا شخصیت کو دکھانا نہیں رہتا بلکہ تصویر کسی خیال، احساس یا انسانی تجربے کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے۔ یوں مدثر کا کام حقیقت نگاری سے آگے بڑھ کر تشریح اور مفہوم کی ایک وسیع دنیا میں داخل ہوتا ہے۔ پورٹریٹ ہو یا منظر، وائلڈ لائف ہو یا علامتی ترکیب، ان کے مختلف موضوعات کو جوڑنے والی بنیادی کڑی مشاہدہ، کمپوزیشن، روشنی، رنگ اور مصورانہ اظہار ہے۔ روشنی مدثر کی مصوری میں خصوصی اہمیت رکھتی ہے۔ وہ روشنی کو محض آرائشی عنصر کے طور پر استعمال نہیں کرتے بلکہ اس کے ذریعے شکل کو ابھارتے، فضا قائم کرتے اور ناظر کی توجہ کو تصویر کے اندر ایک مخصوص سمت میں لے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے پورٹریٹس میں چہرے کی ساخت ہو یا لینڈ اسکیپ میں بدلتی ہوئی روشنی، دونوں صورتوں میں روشنی تصویر کے مزاج کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ مدثر کے فنی سفر کا ایک اہم پہلو فن کی تعلیم اور فروغ بھی ہے۔ Fanoon Art Academy کے ذریعے وہ مصوری اور خطاطی کی تعلیم کے لیے ایک ایسا ماحول قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں نئی نسل فن کو باقاعدہ طور پر سیکھ اور سمجھ سکے۔ اسی سلسلے میں منعقد ہونے والا Fanoon Art Festival بھی ان کی فنی اور تعلیمی سرگرمیوں کا نمایاں حصہ رہا، جس میں طلبہ، نوجوان فنکاروں اور مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے شرکاء کو آرٹ اور خطاطی کے مقابلوں، عملی مظاہروں اور فنکارانہ سرگرمیوں میں شرکت کے مواقع فراہم کیے گئے۔ اس طرح ان کا تعلق فن صرف اپنی تخلیقات تک محدود نہیں رہتا بلکہ دوسروں کے لیے فنی مواقع پیدا کرنے تک بھی پھیلتا ہے۔ یہ پہلو اس لیے بھی اہم ہے کہ آج فنکار کا کردار صرف اسٹوڈیو تک محدود نہیں رہا۔ ڈیجیٹل ذرائع نے فنکار اور ناظر کے درمیان فاصلے کم کیے ہیں۔ ایبٹ آباد میں بیٹھا ہوا ایک فنکار اپنی تخلیق کو پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا کے مختلف حصوں تک پہنچا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں مدثر کی بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل شناخت بھی ان کے فنی سفر کا ایک اہم حصہ ہے۔ PakistaniHero.com پر مدثر غفار کا پروفائل بھی اسی سلسلے میں قابلِ ذکر ہے، جہاں انہیں “Pakistani Digital Fine Artist and Art Educator” کے طور پر Visual Arts کے زمرے میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ پروفائل ان کی مصوری کے ساتھ ساتھ فن کی تعلیم سے ان کی وابستگی کو بھی نمایاں کرتا ہے اور ان کے فنی سفر کو ایک وسیع تر پاکستانی تناظر میں سامنے لاتا ہے۔ ایسے پلیٹ فارمز خصوصاً ان فنکاروں کے لیے اہم ہیں جو بڑے روایتی آرٹ مراکز سے باہر رہتے ہوئے اپنا تخلیقی سفر جاری رکھتے ہیں۔ آج کی دنیا میں مصنوعی ذہانت اور خودکار تصویری ٹیکنالوجی نے فن کی تخلیق اور مصنفیت کے بارے میں نئے سوالات ضرور پیدا کیے ہیں، لیکن فن کے بنیادی تقاضے اپنی جگہ موجود ہیں۔ ٹیکنالوجی اوزار فراہم کر سکتی ہے، مگر مشاہدہ، انتخاب، ذوق، تخیل اور تخلیقی فیصلہ فنکار ہی کے دائرۂ کار میں آتے ہیں۔ مدثر کا سفر بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ذریعہ بدلنے سے فن کی بنیادی قدر نہیں بدلتی۔ ایک فنکار گھرانے میں آنکھ کھولنے والے مدثر غفار نے اپنے والد سے ملنے والی ابتدائی تربیت، اپنے بھائیوں کی فنی وابستگی اور اپنے ذاتی تجربے کو ایک ایسے مرحلے تک پہنچایا جہاں روایت اور ٹیکنالوجی ایک دوسرے سے متصادم نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تکمیل کرتی دکھائی دیتی ہیں۔ ان کے لیے ڈیجیٹل مصوری ماضی سے انقطاع نہیں بلکہ ماضی سے حاصل کیے گئے فنی شعور کو نئے زمانے کے وسیلے میں منتقل کرنے کا عمل ہے۔ آج ان کے سامنے سفر کا اگلا مرحلہ ہے: اپنے کام کو مزید نکھارنا، اپنی فنی زبان کو زیادہ واضح اور پختہ کرنا، اور مختلف موضوعات کے ذریعے مصوری کے امکانات کو مسلسل دریافت کرتے رہنا۔ پورٹریٹ سے لینڈ اسکیپ تک، وائلڈ لائف سے علامتی اور تمثیلی موضوعات تک، ان کا کام ایک ایسے فنکار کی تصویر پیش کرتا ہے جو ابھی اپنے سفر میں ہے، مگر اپنی سمت سے واقف ہے۔ مدثر غفار کی کہانی دراصل ایک ایسے فنکار کی کہانی ہے جس نے روایت سے بنیاد حاصل کی، تجربے سے اپنا راستہ بنایا اور ڈیجیٹل عہد کو اپنے اظہار کا وسیلہ بنایا۔ اور شاید ان کے اپنے الفاظ ہی اس پورے سفر کا سب سے جامع خلاصہ ہیں: “Art is art. Don’t get confused by the tools.”

— Mudassar Ghaffar

All entries